اُڈپی:17/اپریل(ایس اؤنیوز) ریاست میں گئو کشی قانون کو منضبط طریقے سے ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے، گئو کشی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دینے کے لئے گجرات میں بحث چل رہی ہے، اسی طرح کا ایک قانون کرناٹکا سمیت ملک بھر میں جاری کرنا ہے، جس سے گائے کی حفاظت ممکن ہوگی۔ ان باتوں کا خیال ایم پی شوبھا کرندلاجے نے ظاہر کیا۔
وہ یہاں دکشن کنڑا ضلع سہکاری ہالو اتپادکر وکوٹا(ضلعی دودھ کی پیداوار کمیٹی) کی جانب سے تعمیر کردہ ڈیری اور انتظامیہ دفتر کے سنگ بنیاد پروگرام میں خطاب کررہی تھیں، دودھ اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کسانوں کےمسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے شوبھا کرندلاجے نے گئو کشی پر زیادہ باتیں کرتی نظر آئی،اس موقع پر پروگرام کے ڈائس پر موجود اُڈپی ضلع نگراں کار وزیر پرمود مدھواراج نے خطاب کرتے ہوئے ایم پی کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہاکہ جو لوگ گئو کشی کے متعلق بھاشن دیتے نہیں تھکتے انہیں کسانوں کے حقیقی مسائل سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے کیونکہ انہیں سمجھ میں نہیں آتاہے کہ کسانوں کے مسائل کیا ہیں، کسانوں کے پاس موجود بوڑھی گائیں اور بیلوں کا کیا کریں؟۔ انہوں نے ایم پی کے سامنے سوال کیا کہگئو رکھشا کی بات کرنے والے پہلے اس کا حل ڈھونڈیں، اور گاؤں گاؤں ہنگامہ خیزی اور ماردھاڑ کرنے سے اُن کے لئے بہتر ہے کہ وہ دیہاتوں میں گوشالہ تعمیر کرکے ایسی گائیوں کی پرورش کاکام کریں۔ بھارت جس طرح دودھ پیدا کرنے میں اول نمبر پر ہے اسی طرح گائے کا گوشت برآمد کرنےمیں بھی اول نمبر پر ہے، انہوں نے واضح انداز میں چیلنج کیا کہ مرکز میں گئو رکھشا کی بات کرنے والے لوگوں کی حکومت ہے تو وہ سب سے پہلا کام یہ کریں کہ وہ گائے کے گوشت کے ایکپسورٹ پر پابندی عائد کریں ، جس کے نتیجے میں تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
4